پارٹی لائن

حسین ثاقب

ہمارے ملک کی جمہوری سیاست بھی عجیب کھیل ہے، بالکل کوکلا چھپاکی کی طرح۔ اس میں بھی ہر کھیلنے والا صرف اسی کا حکم مانتا ہے جس کے ہاتھ میں کپڑے کا کوڑا ہو۔ اس کوڑے کے خوف سے سب کھیلنے والے سر جھکا کر دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی کسی کردہ یا ناکردہ خطا کی پاداش میں کمر پر کوڑا   پڑنے کا انتظار کرتے ہیں۔

 سیاست اور اصل کھیل میں فرق صرف اتنا ہے کہ کھیل میں کوڑا ایک ہاتھ میں نہیں رہتا۔ ایک فرق اور بھی ہے۔ اصل کھیل میں کپڑے کا کوڑا عام سی کاٹن، پاپلین یا لٹھے سے بنایا جاتا ہے لیکن سیاسی کوکلا چھپاکی کا کوڑا بالاہتمام ریشمی کپڑے سے بنتا ہے، سہانے سپنوں اور حسین وعدوں کا ریشم۔ انجام کار سپنوں کی تعبیر اور ایفائے عہد کے انتظار میں عمریں بیت جاتی ہیں ۔

کہنے کو تو جمہوریت آزادئ رائے اور آزادئ اظہار کا حق دیتی ہے لیکن سیاسی پارٹیوں میں عملی طور پر یہ حق صرف پارٹی سربراہ یا اس کے منظور نظر اہل خانہ کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ باقی سب میاں مٹھو کی طرح وہی راگ الاپتے ہیں جو انہیں پڑھایا جاتا ہے اور جس سے سر مو بھی انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کو پارٹی لائن کہتے ہیں۔ ایک سٹیج آرٹسٹ تو سکرپٹ سے ہٹ کر بھی لائن بول سکتا ہے لیکن سیاسی آرٹسٹ کو ایسے مذاق کی اجازت نہیں۔

کہتے ہیں کہ پارلیمانی نظام میں وفاق صوبوں کی اور پارٹی سربراہ اپنے ارکان اسمبلی کی خوشنودی کا محتاج ہوتا ہے اور اگر ارکان اپنے سربراہ کی پالیسیوں سے اختلاف کریں تو سربراہ کو پارٹی کا، یا اگر وہ برسراقتدار ہو تو حکومتی عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ ہماری جمہوریت میں ایسا مذاق ناپسندیدہ شرعی عیب سمجھا جاتا ہے۔ اس پارلیمانی عیب کا علاج بھی چودھویں اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کر دیا گیا ہے۔

آج سے لگ بھگ پینتالیس سال پہلے جب اخبار میں کام شروع کیا تو “پارٹی لائن” کا نام سنا۔ پہلے سوچا شائد یہ بھی ریلوے لائن کی طرح کی کوئی چیز ہوگی۔ جب حقیقت میں واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ اس لائن پر چلنے والے بھی ریلوے انجن کی طرح کانٹا بدلنے والے کے محتاج ہوتے ہیں۔ پارٹی لیڈر جب چاہے کانٹا بدل کر اپنی پارٹی کی لائن بدل سکتا ہے۔ وہ عوامی حکومت کا دور تھا اور ارکان اسمبلی پارٹی چئیرمین کے جنبش ابرو پر لائن اپ ہو جاتے تھے۔ اور تو اور اتنا ڈسپلن تھا کہ پارٹی کے سب کہہ و مہ ایک طرح کی یونیفارم پہنتے جس میں تمیز و تخصیص کے لئے مختلف رنگوں کی پٹیاں اور ربن لگائے جاتے۔

میرے بزرگوں کے جاننے والے ایک صاحب رکن اسمبلی تھے اور پارلیمانی سیکرٹری بن چکے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے فرمائش کی کہ گاہے گاہے ان کے نام سے مروجہ پارٹی لائن کے مطابق بیان شائع کردیا کروں کیونکہ ان کے محکمے کا پی آر او اپنی ساری توجہ وزیر صاحب پر مرکوز رکھتا تھا۔

اس سے پہلے پارٹی لائن کا لفظ میرے لئے اجنبی تھا۔ میں نے اپنے سینیئر رفقائے کار سے پوچھا تو انہوں نے نہ صرف برسراقتدار جماعت کی مروجہ پارٹی لائن کے بارے میں میری معلومات میں اضافہ کیا بلکہ ملکی سیاست کے دیگر دلچسپ مگر ہوش ربا اسرار و رموز بھی گوش گزار کئے۔ عوامی حکومت کے عہد میں ہر وزیر مشیر ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے یا بہانے کی نوید دیا کرتا۔ ان میں ایک مشیر ایسا بھی تھا جسے باخبر حلقوں کے مطابق اس کے حاسدین “مشیر بوسیلہ ہمشیر” کہا کرتے تھے۔

ایک پارٹی لائن “عوامی” تھی جس کے تحت ہر چھوٹا بڑا لیڈر ایک ہی بات چنگھاڑتا سنائی دیتا تھا کہ ملک میں عوامی انقلاب آ گیا ہے، عوامی طوفان آنے والا ہے جو سب شکست خوردہ عناصر کو بہا لے جائے گا۔ پھر جال بچھانے کی باری آئی جس کے مطابق سڑکوں کے جال بچھا دیں گے، سکولوں کے جال بچھا دیں گے۔ ایک صوبائی وزیر جیل خانہ جات کو اور کچھ نہ ملا تو یہاں تک کہہ گئے کہ ہم ملک میں جیلوں کا جال بچھا دیں گے۔

جب عوامی حکومت کا دم واپسیں آیا تو پھر پارٹی لائن اس طرح تھی کہ قائد عوام کی ولولہ انگیز قیادت میں ملک دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا پے۔ اس وقت پارٹی لائن صرف تقریروں میں نہیں، سرکاری اشتہاروں میں بھی جھلکتی تھی۔ میں نے خود ایسے اشتہارات بھی ڈرافٹ کئے جو وزیر اعظم کے انتخابی جلسے کے موقع پرخصوصی ضمیمہ کے لئے کاروباری طبقے کی طرف سے دیے گئے۔ بعد میں ہمارا ایک نمائیندہ اشتہاروں کا بل وصول کرنے کامونکی کی آڑھت منڈی میں گیا تو اس کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کا ڈکر پھر کبھی سہی۔ ان اشتہاروں کی قابل اعتراض لائن جو فرمائشی طور پر لگائی گئی وہ یوں تھی کہ آپ آئے تو بہاریں آئیں۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پارٹی لائن کا واحد مقصد کسی قومی ادارے کی توہین کرنا ہو تو اس کی سزا نچلے درجے کے “لیڈروں” کی بجائے حقیقی لیڈروں کو دی جائے۔ یہ بچارے تو میاں مٹھو، حکم کے غلام اور پارٹی لائن کے تابع ہوتے ہیں

ان کا اصل المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی زنجیروں سے پیار کرتے ہیں۔ سیاست کی بستی میں داخل ہوتے ہی وہ پتھر کے ہو جاتے ہیں اور ان کی واپسی کی ساری راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ اور اگر بالفرض محال وہ واپسی کا راستہ تلاش کر بھی لیں تو وہ زندگی میں اور کسی کام کے نہیں رہتے۔

کروں گا کیا جو “سیاست” میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

Advertisements