آرمی اٹیچمنٹ: تین ماہ کا تعلق اور عمر بھر کا رومانس

LOC.jpg

حسین ثاقب

وہ فروری 1983 کی ایک خنک رات تھی جب ریل گاڑی نے مجھے جہلم کے ریلوے اسٹیشن پر اتارا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اگلے تین مہینے مجھے ایک سخت اور جفا کش زندگی گذارنا پڑے گی۔ اور یہ بات تو یقینا” ناقابل تصور تھی کہ اس مدت کے اختتام پر جب میں اپنی پررونق زندگی میں واپس لوٹوں گا تو اتنا بدل چکا ہونگا کہ آئینہ بھی جھوٹ بولتا محسوس ہوگا۔

اس زمانے کے رواج کے مطابق میرا اسباب ایک بستر بند (ہولڈال) اور ایک سوٹ کیس پر مشتمل تھا۔ بستر بند میں رضائی اور اونی گدے کے علاوہ اللم غللم چیزیں بھی ٹھونسی ہوئی تھیں جبکہ سوٹ کیس میں لباس کے جوڑے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ آمدہ تین مہینوں میں مجھے ان کی قطعی ضرورت نہیں پڑنے والی تھی۔ اس کے علاوہ ایک ریڈیو سیٹ بھی تھا۔ اس کے بارے میں بھی علم نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں یہی میرا مونس و ہمدم ہو گا۔

مجھے “وصول” کرنے کے لئے ایک این سی او کی کمان میں تین جوان ایک فوجی ٹرک اور ایک جیپ لئے میرے منتظر تھے۔ انہوں نے ہاتھ ملایا، گاڑی میں بٹھایا اور فوجی میس میں لے جا کر اتار دیا۔ میس کے کمرے میں ایک خدمت گذار جوان میرا منتظر تھا جسے اس وقت کی فوجی زبان میں بیٹ مین کہتے تھے۔ اس نے ریلوے سٹیشن والی پارٹی سے میرا چارج لیا، میرا اسباب گاڑی سے اتارا اور سلیقے سے کمرے میں رکھا۔ اس کے بعد اس نے مجھے کمرے میں تشریف رکھنے کا اشارہ کیا اور نہایت بے تکلفی سے بلااجازت میرا سامان کھولنا شروع کردیا۔ ایک دو جوڑے نکالے اور رخصت ہولیا۔ معلوم ہوا کہ کپڑے دھوبی کے حوالے کرکے میس سے کھانا لے کر آئےگا۔

اس کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر میں نے کمرے کا جائزہ لیا۔ دو نواڑی پلنگ، ایک میز اور دو کرسیوں سے آراستہ اس کمرے میں مجھے دو راتیں بسر کرنا تھیں۔ اس کمرے کی واحد عیاشی اس کا اٹیچڈ باتھ روم تھا جس میں گرم پانی کے حصول کے لئے گیزر کی بجائے ایمرشن راڈ رکھی تھی۔ باتھ روم کا بیرونی دروازہ بھی تھا جو صفائی والے کی آمدورفت کے لئے تھا۔ بیٹ مین کمرے کے ذریعے داخل ہوتا اور گرم پانی کا انتظام کرتا تھا۔ اس کی آمدورفت کی سہولت کے لئے رات کو کمرے کو اندر سے مقفل کرنے کا رواج نہیں تھا۔

ان دنوں جہلم کے جنرل آفیسر کمانڈنگ جنرل عالم جان محسود تھے جو بعد میں لاہور کے کور کمانڈر بھی رہے۔ اگلے روز ڈویژن ہیڈ کوارٹر کی ٹی بریک میں انہوں نے ملاقات کا شرف بخشا۔ ان کی سدا بہار شرمیلی مسکراہٹ نہایت دیدہ زیب اور دلکش تھی۔

میں یہاں یہ بتانا بھول گیا کہ جہلم کے فوجی ڈویژن ہیڈکوارٹر میں میری حاضری کی وجہ کیا تھی۔ میں مقابلے کا امتحان پاس کر کے تربیت حاصل کر رہا تھا۔ سول سروسز اکیڈمی میں ہماری مشترکہ تربیت کا دورانیہ لگ بھگ نو ماہ کا تھا جس میں تین ماہ کی فوجی تربیتی اٹیچمنٹ بھی شامل تھی۔ وہ ضیاء الحق کی فوجی حکومت کا دور تھا۔ سنا تھا کہ فوجی اپنے تربیتی اداروں بشمول کاکول اور کوئٹہ میں تربیت کی کوالٹی کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ ہمارے لئے اس کا مطلب یہ تھا کہ ہماری سویلین تربیت کو بھی بلا رو رعایت سنجیدگی سے لیا جائیگا۔

ہماری تربیت میں محترم شیخ ہمایوں رشید کی زیر نگرانی علی الصبح منہ اندھیرے کی پی ٹی اور شام کی کھیل کود بھی شامل تھی۔شیخ صاحب کسی ملٹری کالج کے زخم خوردہ تھے اور اپنا پی ٹی کا تلخ و شیریں تجربہ پوری جاں فشانی سے ہمارے اوپر آزماتے تھے۔ ابھی چند ہفتے پہلے ان سے ایک نیشنل سیونگ سنٹر میں ملاقات ہوگئی۔ ہمیں ورزش کرانے کے طفیل وہ تازہ دم اور صحتمند تھے اور پینتیس سال گذرنے کے باوجود ابھی بھی چاق و چوبند تھے۔ جملہ ریٹائرڈ لوگوں کی طرح محبت سے ملے۔

اکیڈیمی کے تربیتی شعبے کے مدارالمہام بھی ایک فوجی افسر بریگیڈیئر ظفر مسعود مرحوم تھے جو ذات کے توپچی تھے لیکن صفات میں اعلی پائے کے انسان تھے۔ ان کے لہجے کی حلاوت اور ان کی آنکھوں کی شرارت نے انہیں ہم میں سے کیئوں کا فیورٹ بنا دیا تھا حالانکہ تربیتی امور میں سختی کے باعث وہ اکیڈمی میں ضیاءالحق کے قائم مقام مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سمجھے جاتے تھے۔ وہ ہمیں ہماری سہ ماہی فوجی اٹیچمنٹ کی سختیوں سے بھی ڈراتے ریتے تھے۔ مجھے تو خاص طور پر کہتے تھے کہ تم تو ضرور لائن آف کنٹرول پر تین مہینے گذاروگے جہاں بجلی بھی نہیں ہوتی نہ پکی سڑک ہی کا وجود ہوتا ہے۔

جہلم سے بھمبر لے جانے کے لئے ایک نوجوان کپتان پہنچ چکا تھا۔ بھمبر پہنچ کر پتہ چلا کہ بھمبر تو محض عارضی پڑاؤ تھا، میری منزل تو وہاں سے بھی آگے پہاڑوں میں عین وہیں ہے جہاں کے بارے میں بریگیڈئیر ظفر مسعود ڈرایا کرتے تھے۔ صرف ایک ہی دن گذرنے کی دیر تھی کہ احساس ہوا کہ جنرل عالم جان محسود کی مسکراہٹ دیدہ زیب ہی نہیں فریب آگیں بھی تھی۔

یہ رُوداد ابھی یہاں تک پہنچی تھی کہ عزیزم باسط شجاع نے اطلاع دی جنرل عالم جان محسود خالق حقیقی کو پیارے ہو چکے ہیں۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ ان سے آخری ملاقات قریبا” پانچ سال پہلے اسلام آباد میں ہوئی تھی جہاں وہ نیوی کے اسپتال میں آنکھوں کے ڈاکٹر سے ملنے آئے تھے۔ میں نے ان سے اپنا تعارف کرایا تو مل کر بہت خوش ہوئے۔ ان کا ایک بیٹا سول سروس میں ہمارا شاگرد تھا۔ ایک ملاقات اس کی شادی میں بھی ہوئی تھی لیکن وہاں صدر غلام اسحاق خان اور وزیر اعظم بینظیر بھٹو بھی موجود تھیں اس لئے ان سے تعارف کرانے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔

میں نے پہلے لکھا تھا کہ جنرل صاحب کی دلکش مسکراہٹ فریب آگیں بھی تھی۔ بعد میں میں نے ان کی مسکراہٹ کا ایک اور رنگ بھی دیکھا کہ غصے سے ان کی آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے لیکن ہونٹوں پر مسکراہٹ بدستور قائم تھی۔ جب انہوں نے بات کرنے کے لئے منہ کھولا تو ان کے اصلی موڈ کا اندازہ ہوا۔

رُوداد کو پٹڑی پر چڑھانے کے لئے بھمبر کے لئے دوبارہ عازم سفر ہوتے ہیں۔ ای ایم ای کا نوجوان کپتان مجھے جہلم سے وصول کرکے براستہ کھاریاں چھاؤنی لارہا تھا تو رستے میں کئی دیہات گذرے جن میں لادیاں اور گلیانہ کے نام جانے پہچانے لگے۔ لادیاں نے تو شہید میجر عزیز بھٹی نشان حیدر کی وجہ سے عزت پائی اور تاریخ میں امر ہو گیا۔

کھاریاں کینٹ سے نکلے تو گجرات بھمبر روڈ کی طرف جانے والا راستہ بے حد خراب نکلا جس پر ہماری جیپ ہچکولے کھا رہی تھی۔ ایک تو راستہ ناہموار اوپر سے فوجی جیپ کا سفر۔ جن لوگوں کو فوجی جیپ کی پچھلی نشست پر بیٹھنے کا تجربہ ہے وہ میرے اس سفر کا درد محسوس کر سکتے ہیں۔ راستے میں ایک اور گاؤں کا بورڈ دیکھا تو ایسا لگا جیسے غیر مرئی طاقتوں نے تکلیف سہنے کا اشارہ کیا ہے۔

گاوں کا نام سہنہ تھا۔

تقریبا” ڈیڑھ ماہ بعد بھمبر سے کھاریاں اسی راستے سے اس حالت میں پیدل مارچ کرنا پڑا کہ تن پر خاکی وردی اور پاؤں میں بھاری فوجی ڈی ایم ایس بوٹ تھے۔ اس وقت جیپ کا سفر عیاشی لگا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ خاکی وردی کے کرشمے کی وجہ سے آبلہ پائی کے باوجود ہونٹوں پر ہنسی تھی اور رگوں میں دوڑنے والا سرخ لہو سماعتوں میں حدی خوانی کر رہا تھا۔

یہ ایک مختصر سا دستہ تھا جسے مقررہ وقت میں پینتیس کلو میٹر کا سفر طے کر کےکھاریاں ریلوے سائیڈنگ پر پہنچنا اور وہاں خیمہ زن پلٹن میں “رپورٹ” کرنا تھا۔ ہم لوگ ” دم دم علی علی حق حق علی علی” پکارتے اور اس کی لے پر مارچ کرتے تو رگوں میں چنگاریاں پھوٹنے لگتی تھیں۔ ہمیں دیکھ کر یونٹ کے ڈاکٹر کیپٹن صادق میمن بھی اپنی ایمبولینس سے اتر کر ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ وہ اس وقت ڈاکٹروں کی جبری فوجی بھرتی کے قانون کے تحت ایک مقررہ مدت کے لئے آئے تھے لیکن ان کا ایسا دل لگا کہ انہوں نے مستقل رہنے کی درخواست گذار دی جو کسی وجہ سے منظور نہ ہو سکی۔

بار بار کے اس فلیش بیک سے میں خود بھی بور ہو رہا ہوں کیونکہ اس کی وجہ سے کہانی پٹڑی پر نہیں چڑھ رہی۔ امید ہے میرے قارئین اس مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ دراصل کچھ یادیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ہم پاکستانیوں کی طرح قطار میں کھڑی ہو کر اپنی باری کا انتظار نہیں کر سکتیں اور دھکا شاہی سے کہانی میں ا گھستی ہیں۔ یہ یادیں اتنی لاڈلی ہوتی ہیں کہ انہیں زبردستی کہانی بدر بھی نہیں کیا جاسکتا۔

اس زمانے میں بھمبر سے سماہنی جانے والی سڑک (جی ہاں، میری منزل سماہنی کے ساتھ تھی) زیادہ تر کچی تھی اور بارش کے موسم میں کسی بس یا لاری کے قابل نہیں رہتی تھی۔ ایسی صورتٍ حال میں گھروں کو چھٹی پر جانے والے ہر رینک کے فوجی بارش میں بھیگتے ٹیکریوں اور پہاڑیوں پر پھسلتے سفر کیا کرتے تھے۔ بھمبر سے نکل کر جنڈی چونترہ تک پکی سڑک تھی جہاں سے ایک رستہ شادی شہید کی درگاہ تک جاتا تھا۔ باقی سارا راستہ کچا تھا۔ کچی سڑک کی لمبائی گیارہ کلومیٹر تھی۔ خیال رہے کہ یہ پہاڑی علاقہ تھا اور پیدل چلنے والنے سڑک سے ہٹ کر چلتے تھے۔ ٹیکری پر چڑھنا کارے دارد تھا کیونکہ پھسلن کی وجہ سے لبٍ بام سے دو چار ہاتھ پہلے کئی بار پھسل کر نیچے آنا پڑتا تھا۔ اس کے لئے اس چیونٹی کی مستقل مزاجی درکار تھی جس نے ایک بار کسی غار میں جنگ سے بھاگے ہوئے امیر تیمور گورگان کو مستقل مزاجی کا سبق دیا تھا۔ البتہ ایک دفعہ چوٹی پر پہنچ کر اترنا بہت آسان تھا۔ سکی انگ کرنے والے جس طرح برف پر پھسلتے ہیں اسی طرح یہاں بھی اس وقت تک پھسلتے رہتے تھے جب تک تشریف کے بل گر کر بریک نہ لگ جائے۔

بھمبر میں معمول کی ملاقاتوں کے بعد اگلی صبح مجھے ایک میجر کی معیت میں منزل کی طرف روانہ کیا گیا۔ گویا اب میرا سفر اپ گریڈ ہو چکا تھا۔ فوج میں میجر بلوغت کی علامت ہے کیونکہ اس سے نیچے والے سارے افسر ینگسٹر کہلاتے ہیں۔ میجر کو فیلڈ افسر بھی کہتے ہیں اور یہ ذمہ دارانہ رینک ہوتا ہے۔ یہ میجر صاحب بڑی اچھی گفتگو کرتے تھے۔ راستے میں ایک موڑ مڑنے کے بعد گاڑی روک کر انہوں نے مجھے نیچے اتارا اور ایک انجانے تفاخر سے کہا کہ اس وقت ہم دشمن کے فائر کی زد میں ہیں۔

“وہ سامنے آپ کو ریچھ کی شکل کی پہاڑی نظر آرہی ہے؟ اس کی چوٹی پر دشمن کی پوسٹ ہے۔ وہ ہمیں وہاں سے مشین گن سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ فائر نہ بھی کریں تو وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں۔ آج ان کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز میں سٍٹ ریپ بھیجی جائیگی کہ دشمن کی جیپ سے ایک میجر اترا اور اس نے ایک سویلین کو اشارے سے ہماری پوسٹ دکھائی فلانے فلانے گرڈ ریفرنس پر۔ ہاہاہا۔”

“یہ سٹ ریپ اور گرڈ ریفرنس کیا ہوتا ہے”، میں نے معصومیت سے پوچھا۔

“سب سمجھ جاوگے پارٹنر۔ آپ لوگوں کو اسی لئے تو فوجی اٹیچمنٹ پر بھیجا جاتا ہے۔”

“آپ نے مجھے پارٹنر کیوں کہا میجر صاحب؟”

“آج کے بعد تم اپنے سے جونیئر کو پارٹنر ہی کہہ کر مخاطب کروگے۔ اور ہاں، میں نے سنا ہے تمہیں کپتانی کے تین پھول لگیں گے۔ کسی کو میجر صاحب یا کرنل صاحب کہنے کی بجائے صرف سر کہنا۔ یہ ہماری روایات ہیں۔ اور ہاں تم چڑھائی چڑھ لوگے؟ کیونکہ ہماری گاڑی راستہ خطرناک ہونے کی وجہ سے خنجر پہاڑ کے دامن تک جائے گی۔ چوٹی تک ہمیں پیدل جانا پڑے گا۔”

مجھے اکیڈیمی کی پی ٹی سے بنے ہوئے سٹیمینا پر بھروسہ تھا اس لئے میں اعتماد سے چل پڑا۔ لیکن پونے گھنٹے کی چڑھائی کے بعد جب سی او کے دفتر میں داخل ہوئے تو میں کسی گھوڑے کی طرح پسینے میں نہایا ہوا تھا اور میرا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔ کرنل صاحب نے ہاتھ ملاتے ہوئے طنزیہ نظروں سے مجھے دیکھا اور صرف اتنا کہا کہ کچھ دن ہمارے ساتھ رہوگے تو پھر سانس نہیں پھولے گا۔

خنجر پہاڑ کی چوٹی پر مجھے یونٹ کے میڈیکل افسر کیپٹن صادق میمن کا روم میٹ بنا دیا گیا۔ میں آپ کے لئے جہلم والی آفیسر میس کے کمرے کی تصویر کشی کر چکا ہوں۔لیکن خنجر ٹاپ کے اس کمرے کی خوبصورت بات یہ تھی کہ دروازے سے نکلتے ہی سامنے مقبوضہ کشمیر میں واقع پہاڑی سلسلوں پر نظر پڑتی تھی۔ ان میں سب سے زیادہ دلکش سلسلہ پیر پنجال کا تھا جس کی چوٹیاں ابھی تک برف سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ ان چوٹیوں کا نظارہ آنکھوں کی طراوت کا باعث تھا۔ صبح صبح پیر پنجال رینج کا نظارہ معمولات کا لازمی حصہ بھی تھا۔ ہم پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑ کر ٹوتھ پیسٹ دانتوں پر رگڑتے اور پہاڑ کے نظارے سے دعوت مژگاں کی عیاشی کرتے تھے۔ اوپن ائر میں اس سرگرمی کی واحد وجہ یہ تھی کہ کمرے کا اٹیچڈ باتھ روم فلش سسٹم سے محروم ٹوائلٹ سے ملحق تھا لہٰذہ اس کام کے لئے قطعی غیر موزوں تھا۔

رات کو لالٹین کی سنہری روشنی میں کمرے کا ماحول نہایت پراسرار لگتا تھا۔ کمرے کی دیواریں کچی تھیں اور چھت گھاس پھونس اور درختوں کی ٹہنیوں سے بنی ہوئی تھی جس پر مٹی ڈال کر گارے کا پلستر کیا گیا تھا۔ اس کمرے کو پیار سے بنکر بھی کہا جاتا تھا۔ اس میں دو چارپائیاں تھیں اور دو چھوٹی میزیں۔ صبح صبح اٹھ کر شیو بنانے کے لئے یہی میزیں کام آتی تھیں۔ بنکر کی نیم تاریکی میں محض اندازے سے شیو بنانا یہیں سیکھا۔ رات کے وقت بنکر سے لالٹین کے بغیر نکلنا ممکن نہیں تھا کیونکہ اندھیرے میں پاؤں غلط پڑتا تو کسی کھائی میں بھی گر سکتے تھے۔ رات کا کھانا میس میں گیس لیمپ کی روشنی میں کھاتے تو ایک دوسرے کی شکلیں بھی صاف دیکھ لیتے تھے۔

کرنل صاحب سے پہلی ملاقات پر دل بہت رنجیدہ تھا۔ انہوں نے میرے پھولے ہوئے سانس کو جن طنزیہ نظروں سے دیکھا تھا ان کی کاٹ سے دل زخمی سا ہو گیا تھا حالانکہ ان کے دفتر میں داخل ہونے سے پہلے میں نے پانچ منٹ رک کر سانس درست کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے دلاسہ دیا کہ دل چھوٹا نہ کرو۔ ایک تو کرنل صاحب موصوف کا مزاج ہی ایسا ہے جو تمہیں کل پرسوں تک دوسرے افسر بھی بتا دیں گے دوسرا تم ایک ہفتے کی پریکٹس کے بعد سانس پھولنے کی تکلیف پر قابو پا لو گے۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ روزانہ ان کی ڈسپنسری (فوجی زبان میں آر اے پی یا رجمنٹل ایڈ پوسٹ) کا چکر لگایا کروں۔

“آپ کی یہ پوسٹ ہے کہاں؟”

“بالکل نیچے۔ جہاں سے پلٹن کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ جہاں سے تم نے پیدل چڑھائی شروع کی تھی اس سے بھی پہلے۔”

انہوں نے میرے چہرے پر گھبراہٹ دیکھی تو کہنے لگے، پلٹن کی کینٹین پاس ہی ہے۔ وہاں تازہ تازہ خستہ جلیبیاں اور گرما گرم پکوڑے میرے ذمے۔ پہلے دن تمہارا بیٹ مین تمہیں چھوڑ آئے گا۔

“ایک لاٹھی اپنے ہاتھ میں ضرور رکھ لینا۔ پہاڑ چڑھنے اترنے کے لئے اس سے بہتر کوئی ساتھی نہیں۔ اور ہاں، چڑھائی چڑھتے ہوئے کمر خم کر لینا، رفتار آہستہ رکھنا اور چوٹی کی طرف مت دیکھنا ورنہ ہمت ہار بیٹھو گے۔”

ڈاکٹر صاحب بڑے اچھے اتالیق ثابت ہوئے لیکن یہاں تو ایک سے ایک اتالیق بھرا ہوا تھا۔ ان میں ایک کیپٹن منصور تھے جو پلٹن کے ایجوٹنٹ تھے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ فوج کی زندگی کے بارے میں جو باتیں انہوں نے سکھائیں وہ اب تک ازبر ہیں۔

“سی او صاحب یاد کریں تو پہلی بار ان کے دفتر ٹوپی پہن کر جانا چاہئے۔ داخل ہونے سے پہلے سلیوٹ کرنا ضروری ہے۔ تمہاری وردی سل کر آجائے تو احوالدار میجر تمہیں سلیوٹ کی پریکٹس کرا دے گا۔”

اس کے بعد سلیوٹ کرنا ضروری نہیں کیا، میں نے پوچھا۔

“دوسری بار ٹوپی پہننا ضروری نہیں اور آرمی میں ٹوپی کے بغیر سلیوٹ نہیں ہوتا، صرف اٹینشن ہونا پڑتا ہے۔ اور ہاں، میں چونکہ ایجوٹنٹ ہوں اس لئے مجھے سی او ضاحب کے دفتر میں بار بار حاضری دینا پڑتی ہے۔”

ان سے ہی پتہ چلا کہ کسی جونیئر کے دفتر میں بھی داخلے کے وقت سلیوٹ کرنا لازمی ہے کیونکہ سلیوٹ آپ صاحبٍ مسند کو نہیں بلکہ مسند کو کرتے ہیں۔ میس میں داخلے سے پہلے ٹوپی اور بیلٹ اتارنا پڑتی ہے۔ کھانا سب سے پہلے سینئر کو سرو ہوتا ہے اس کے بعد بلحاظ رینک دوسروں کی باری آتی ہے۔ میس احوالدار اور ویٹروں کو افسروں کی سینیارٹی کا علم ہوتا ہے۔ جب سب سے سینئر کھانا شروع کرے تو اذنٍ عام ہے اور اگر وہ چھوڑ دے تو پلیٹ میں سامنے رکھا کھانا شجرٍ ممنوعہ ہو جاتا ہے۔

“تمہارے پاس ہارڈ کیش ہے پارٹنر؟”

“آپ کو کتنا چاہئیے سر؟” اکیڈمی سے حاصل شدہ تین ماہ کی پیشگی تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے نے خاصا غنی کر دیا تھا۔

“مجھے نہیں چاہئیے۔ تم سارا کیش اپنے سوٹ کیس میں رکھنے کی بجائے میس احوالدار کے پاس جمع کرا دو۔ ضرورت کے مطابق اس سے لے لیا کرنا۔ اسی میں سے میس بل بھی ادا ہوتا رہے گا۔”

ان سے ہی پتہ چلا کہ میس احوالدار افسروں کے لئے الہ دین کے چراغ کا جن ہوتا ہے جو آنٍ واحد میں پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کا حل اپنی زنبیل سے نکال سکتا ہے۔ میں نے بھی اسے بلا کر “سپردم بتو مایہ خویش را” کے مصداق اپنی ساری پونجی اس کے حوالے کردی۔ وہاں اعتبار کا یہ عالم تھا کہ کسی رسید کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی۔

ابھی پلٹن میں آئے تیسرا دن تھا کہ شام کو حکم ملا صبح چھمب کے لئے روانگی پے۔ وہاں جانے کے لئے خنجر سے واپس بھمبر آنا تھا اور بھمبر سے نکل کر واپس کھاریاں یا گجرات جانے کی بجائے بھڑنگ کی چیک پوسٹ سے مڑ کر چھمب جانے والی سڑک سے جانا تھا۔ یہ بھارت کے زیر قبضہ سرحدی قصبہ تھا جس پر پینسٹھ کے آپریشن گرینڈ سلیم میں پاکستان نے قبضہ کر لیا تھا اور اب اس کا نام افتخارآباد تھا۔ ایک آسانی یہ ہوئی کہ اسی شام بھمبر جانے کی اجازت مل گئی اور سفر میں ایک پڑاؤ سے سکون اور سہارا سا محسوس ہوا۔

“ابھی تمہاری یونیفارم سل کر نہیں آئی۔ سیویز میں جانا ہوگا۔ اچھے سے کپڑے پہن کر جانا۔” ایجوٹنٹ نے ہدایات جاری کیں۔

“کیوں سر، کسی بارات کے ساتھ جانا ہے کیا؟”

“جی او سی نے اپنے ڈویژن کے ساتھ اٹیچ سارے سویلین افسروں کو ملاقات کے لئے بلایا ہے۔ اپنے ٹرن آوٹ کی ذمےداری تمہاری اپنی ہے۔ اور ہاں، وہاں زیادہ فنی ہونے کی کوشش نہ کرنا۔ وہ کوئی سبالٹرن نہیں، دو ستارہ جرنیل ہے۔”

میں اگلے دن چھمب کے لئے روانہ ہوا تو اپنی بہترین شلوار قمیض کے اوپر سیکسی سی واسکٹ زیب تن کر رکھی تھی۔ ضیاءالحق کا زمانہ تھا اور ہمارے لئے یہی لباس رائج الوقت تھا۔ لیکن جنرل عالم جان محسود سے سامنا ہوا تو انہوں نے بر سرٍ محفل ساری نفاست خاک میں ملادی۔

“تم کون ہو ینگ مین۔ تمہارے ساتھی یونیفارم میں ہیں اور تم کیا پہن کر آئے ہو۔ کیا سمجھتے تھے زمینوں کی سیر کو جارہے ہو۔”

میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن ان کی دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ آنکھوں سے ایسی بجلی کوندی کہ میں گڑبڑا گیا۔ انہوں نے ساتھ کھڑے ایک افسر کو کچھ ہدایات دیں جو ہماری یونیفارم سے متعلق تھیں۔ وہ مردٍ شریف ان ہدایات کو ایک چھوٹی سی نوٹ بک میں خاموشی سے درج کرتا گیا۔ مختصرا” ہدایات یہ تھیں کہ سویلیئن افسر فوجی افسروں کی طرح حسب معمول کاندھے پر پھول لگائیں گے لیکن بازو پر امتیازی پٹی نہیں باندھیں گے۔ اگر انہوں نے آرمی اٹیچمنٹ کرنی ہے تو سویلئن والی امتیازی پٹی باندھ کر کسی رُو رعایت کی توقع نہ رکھیں۔

جنرل صاحب کے احکام کے جو الفاظ ہماری سمجھ میں آئے وہ بائیس میل اور پٹرولنگ وغیرہ کے متعلق تھے لیکن ان الفاظ کے معانی اوپر سے گذر گئے۔ جنرل صاحب کی تقریر ختم ہوئی تو مردٍ شریف تاسف سے ہماری طرف دیکھنے لگا جس سے اندازہ ہوا کہ ہمارے لئے خبر اچھی نہیں۔

بعد میں پتہ چلا کہ ہاتھ میں سٹاف افسری کی نوٹ بک پکڑے مردٍ شریف کو کرنل سٹاف کہتے ہیں۔ ہمارے میزبان ایک افسر نے بتایا کہ کرنل سٹاف کے قلم سے اب نادرشاہی احکام جاری ہونگے جن کی واحد وجہ یہ تھی کہ درزی کی نالائقی کی وجہ سے میں فوجی کی بجائے سویلین یونیفارم میں حاضر ہو گیا تھا۔

(جاری ہے)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s