ایک نامکمل ہدیہء نعت

حسین ثاقب

فریب ہے غمِ ہستی کی بیقراری بھی

دل و نگاہ کی فریاد و آہ و زاری بھی

بجا کہ خلد ہے مومن کی آرزو لیکن

یہ خلدِ شوق بھی، مومن کی آرزو بھی فریب

یہ رنگ و بو بھی، بہاروں کے قافلے بھی فریب

یہ کہکشاں بھی، ستاروں کے قافلے بھی فریب

نگاہِ ناز بھی، قربت بھی، فاصلے بھی فریب

جہاں میں صرف حقیقت ہے عشقِ مولیٰ کی

تمام دہر ہے باقی گمان و وہم و سراب

میں بے ادب سہی لیکن حسین ثاقب ہوں

کہوں تو کس طرح احوالِ شوق و حالِ خراب

سلیقہ کوئی تو بتلا دے لب کشائی کا

سکھا دے کوئی تو اظہارِ شوق کے آداب

بیاں تو کر دوں میں دل کی حکایتیں لیکن

ؐہزار بار بشوئم دہن ز مشک و گلاب

ہنوز نامِ تو گفتن کمال بے ادبیست

ستمبر ۱۹۷۴ء