مولانا کوثر نیازی اور حافظ شفیق الرحمان

kausarniazi

بھٹو حکومت کے دمِ واپسیں کے دور میں الیکشن دھاندلی کے خلاف نو ستاروں کی تحریک شروع ہوئی تو اس کے اولین اسیران میں حافظ شفیق بھی شامل تھا. اپوزیشن کے سینئر رہنما بشمول جاوید ہاشمی گلبرگ کے ایک ہوٹل میں تحریک کے سلسلے میں اجلاس کر رہے تھے کہ دھر لئے گئے.تب ہمارا ممدوح جناب حمید کوثر کی شفقت کی چھتر چھایا سے بہت دور سیاست کے خارزار میں داخل ہو رہا تھا. اس نے ایک آدھ بار پلٹ کر دیکھنے کی کوشش کی لیکن پتھر کا ہو گیا.

حسین ثاقب

آج حافظ شفیق الرحمان کی دختر نیک اختر کے نکاح مسنونہ کی تقریب میں عزیزی مجید غنی اور دیگر احباب سے ملاقات ہوئی تو یہ واقعہ بھی حافظے میں تازہ ہو گیا. آپ بھی سنئے.

گورنمنٹ کالج جانے سے پہلے میں نے کچھ عرصہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں بھی گذارا. کالج کی عمارت تاج کمپنی مرحومہ اور عرب ہوٹل کے عین سامنے واقع ہے. عرب ہوٹل اختر شیرانی کا مستقل ٹھکانہ تھا اور قیامِ پاکستان سے پہلے لاہور کی ثقافت میں اس کا وہی مقام تھا جو قیامِ پاکستان کے بعد پاک ٹی ہاؤس کو حاصل ہوا. اس کالج میں اپنے زمانے کی نابغہ روزگار شخصیات سے بھی ملاقات رہتی تھی.

یہیں سالِ اول کے زمانے میں میں نے آغا شورش کاشمیری پر ایک دھانسو قسم کی نظم بھی لکھی جس کے ہر دوسرے مصرعے میں “دیوار ہے شورش، للکار ہے شورش، مینار ہے شورش، یلغار ہے شورش” کے قافیہ ردیف کے ذریعے ان کی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا. ہمارے اردو کے ایک پروفیسر سردار محمد جمیل صاحب نے مجھ سے وہ نظم کئی بار سنی اور جھوم جھوم کر سنی اور ایک دن مجھے پکڑ کر میکلوڈ روڈ پر واقع ہفت روزہ چٹان کے دفتر لے گئے. آغا صاحب سے ملاقات بھی ہوئی، ان کی فرمائش پر نظم بھی سنائی اور اپنے ممدوح کو دفتر کا کام نپٹاتے بھی دیکھا.

اس ملاقات کے بعد میرے دل میں بسا آغا صاحب کا دیو ہیکل بت ایسا پاش پاش ہوا کہ میں نے ہمیشہ کے لئے شخصیت پرستی سے توبہ کرلی اور خود کو سمجھا لیا کہ مشاہیر بھی ہماری طرح کے گوشت پوست کے انسان ہوتے ہیں. بایں ہمہ ان کی تحریروں اور تقریروں اور بالخصوص سیاسی شاعری نے جو سحر قلب و جاں پر طاری کیا وہ اب بھی باقی ہے. اگر ان سے بہتر نہیں تو ان جیسا لکھنے اور بولنے والا میں نے کوئی دیکھا ہے تو وہ ہمارا دوست حافظ شفیق الرحمان ہے جسے کسی وقت اس زمانے کے ایک طاقتور وزیر کے غیض و غضب سے بچانا ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا تھا. لیکن حافظ صاحب کا ذکر ذرا بعد میں آئے گا.

کالج میگزین “کریسنٹ” کے انچارج پروفیسر خالد بزمی تھے. انہوں نے مجھے میگزین کا ایڈیٹر مقرر کیا اور سیرت نمبر کے لئے کام بھی کرایا. میگزین کا سارا مسودہ حمایت اسلام پریس کے حوالے کرکے میں گورنمنٹ کالج چلا آیا. کالج بھی انجمن حمایتِ اسلام کا تھا اور پریس بھی جو میگزین کو بلا معاوضہ چھاپتا تھا لیکن طباعت سے پہلے ہی حکومت نے کالج کو بھٹو صاحب کے حکم پر قومی تحویل میں لے لیا جس کی وجہ سے ہمارا مرتب کردہ میگزین شائع نہ ہوسکا. اگر یہ بعد میں شائع ہوا ہو تو ظاہر ہے کسی اور مجلس ادارت کے زیرِ اہتمام ہوگا.

کالج میں ایک بزمِ ادب بھی تھی جس کا مدارالمہام یہ خاکسار تھا. میں پہلی دفعہ بزم ادب کی تقاریب میں اس زمانے کے بسیارگو شاعر عبدالعزیز خالد کو لے کر آیا جو لاہور کے کمشنر انکم ٹیکس تھے. اتفاق سے وہ بھی اسی کالج کے فارغ التحصیل تھے اور خود کو ساختہ اسلامیہ کالج کہتے تھے. اس کے علاوہ قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کو بھی بعد از خرابی بسیار لے کر آیا. وہ خاقانئ ہند اور فردوسی الاسلام کہلانا پسند کرتےتھے اور اگر نہ کہا جائے تو ناراض ہوتے تھے. ان کو لانے لے جانے کا واقعہ کافی دلچسپ ہے جس کی گمبھیرتا اور طوالت کی یہ تحریر متحمل نہیں ہو سکتی. بزمِ ادب کے انچارج حمید کوثر صاحب تھے. حفیظ جالندھری صاحب کے منہ بولے سعادتمند بیٹے اور شاگردِ رشید لیکن مزاج میں ان کے بالکل برعکس.

آج بھی مجھے کسی عظیم آدمی کا تصور کرنا ہو تو بے ساختہ حمید کوثر صاحب کا چہرہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے. ان کی تربیت کا میری شخصیت پر کافی گہرا اثر ہے. میں نے ان کے قدموں میں بیٹھ کر فاعلاتن فاعلات کرنا سیکھا. ان کی شخصیت کا ایسا سحر تھا کہ میں نے شعر گوئی کے ساتھ ساتھ اصول پسندی کو بھی باقاعدہ اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تھا.

یہ وہ زمانہ تھا جب مفکرین، شعراء اور دانشوروں پر سوشلزم کا ایک رومانس طاری تھا. وہ علمی بحث مباحثے اور حلقہ ارباب ذوق کی مجالس کا دور تھا. کوئی گفتگو کارل مارکس اور ہیگل کے حوالوں کے بغیر مکمل نہیں سمجھی جاتی تھی. ہر حیثیت کے اربابِ فکر و نظر سرخ انقلاب کے خواب دیکھتے اور طبقاتی استحصال سے پاک یوٹوپیا میں بسنے کی آرزو پالتے تھے. خود میری ایک نظم کا مصرعہ کافی ہٹ ہوا تھا: پیٹ خالی ہو تو ہر چیز بری لگتی ہے. میرا ایک دوست خالد سلیمی تو جنون کی حد تک انقلابی تھا. بعد میں مایوس ہوکر وہ سکینڈے نیویا کے کسی ملک میں آباد ہوگیا. وہ ایک ایماندار کمیونسٹ اور خوبصورت شاعر بھی تھا. ان سب لوگوں کو امید تھی کہ بھٹو کی حکومت پرولتاریوں کی جنّت کا خواب پورا کرے گی لیکن بھٹو کے سوشلزم نے نہ صرف رومانس توڑ دیا اور خواب بھی بکھیر دئے، اس نے باقاعدہ ظلم و تشدّد کا بازار گرم کر دیا.

وہ شاید بھٹو کا دوسرا سال تھا. میں گورنمنٹ کالج جا چکا تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ اسلامیہ کالج کے حبیبیہ ہال میں یومِ اقبال کا جلسہ منعقد ہورہا ہے جس کے مہمانِ خصوصی بھٹو کے وزیرِ اطلاعات مولانا کوثر نیازی ہوں گے. جب معلوم ہوا کہ اس تقریب میں ہمارا نوجوان دوست حافظ شفیق الرحمان “اقبال اور علماءِحق” کے موضوع پر تقریر کر رہا ہے تو میرا ماتھا ٹھنکا. وہ مجھ سے ایک سال جونیئر تھا، چہرہ سُچی داڑھی سے مزیّن تھا جس نے اب تک استرے کی شکل نہیں دیکھی تھی لیکن بظاہر مولویانہ وضع قطع رکھنے والا یہ اٹھارہ انیس سالہ نوجوان اندر سے شعلہ جوالہ تھا. میں نے حمید کوثر صاحب سے ڈرتے ڈرتے عرض کیا کہ کس محفل میں کس کے سامنے کس موضوع پر آپ کس شمشیرِ آبدار کو بے نیام کر رہے ہیں. لیکن میری بات کے جواب میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اس کی تقریر کے نکات پر اگر ضروری سمجھو تو اس کو مناسب مشورہ ضرور دینا.

تقریر کے وقت وہی ہوا جس کا ڈر تھا. جنہوں نے شورش کی تقریر سن رکھی ہے وہ اس کے مترادفات کے خزینے سے واقف ہوں گے لیکن یہاں تو مترادفات کا سیلاب امڈ رہا تھا، ایک تو انداز بیان بھی مختلف تھا اور دوسرے تقریر کا ایک ایک لفظ موتیوں کی طرح پرویا لگتا تھا. اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ارتجالا” تقریر کر رہا تھا.ادھر اس نے علماءِ حق اور نگار خانہ اقتدار کے دریوزہ گر مولویوں کا تقابل شروع کیا تو اُدھر مولانا کوثر نیازی کی آنکھوں میں خون اترنا شروع ہوا اور ان کے سامنے میز پر رکھا پانی کا جگ خالی ہو گیا. مقرر کا لہجہ نہیں، دلائل جارحانہ تھے جس کی وجہ سے کوثر نیازی کو نگارخانہ اقتدار کے دریوزہ گر مولویوں میں اپنی صورت دکھائی دے رہی تھی. حاضرین میں سے بظاہر سبھی نوجوان مقرر سے متفق تھے کیونکہ اُس زمانے کے لاہور میں ہمارے مہمان خصوصی مولانا وہسکی اور مولانا نوسر بازی کے نام سے مشہور تھے.

جب مہمانِ خصوصی کو تقریر کے لئے بلایا گیا تو ان کی حالت دیدنی تھی. ان کے منہ سے کف رواں تھا اور وہ نوجوان مقرر کے ہاتھوں اپنی اہانت پر سخت چراغ پا تھے. انہوں نے اپنی دستارِ فضیلت کو جو اس وقت ایک قراقلی ٹوپی کی شکل میں تھی، غصّے سے میز پر پٹج دیا اور چیخ چیخ کر حافظ شفیق کو شاہدرے کے ایک محلے کی عورتوں کی طرح کوسنے لگے. ان کے پاس دلائل کا فقدان تھا اس لئے انہوں نے حافظ صاحب کی تقریر کو گلے کی گراریوں کا کمال قرار دیا. پرنسپل صاحب کی صورت ایسی تھی گویا ابھی حرکت قلب بند ہو جائے گی. مولانا تقریر کے آخر میں چائے پئے اور ہاتھ ملائے بغیر رخصت ہوئے تو پرنسپل صاحب کو ایسا لگا گویا وہ ان کی موت کے پروانے پر مہر ثبت کر گئے ہوں. یاد رہے کہ ہمارے زمانے کے نڈر پرنسپل خواجہ عبدالحئی ریٹائر ہو کر جا چکے تھے.

اس رات حمید کوثر صاحب نے حافظ صاحب کو گھر جانے کی اجازت نہیں دی. خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ رات کسی وقت حافظ صاحب کو اٹھا لیا جائے گا. وہ زمانہ ہی ایسا تھا. اس طرح کی تقریریں کرنے والوں کی جوانی شاہی قلعے میں گذرتی تھی. خدا غریق رحمت کرے، حمید کوثر صاحب نے ایک ماں کی طرح انہیں اپنی شفقت کے پروں کے نیچے چھپا لیا تھا.

اس کے چند سال بعد بھٹو حکومت کے دمِ واپسیں میں الیکشن دھاندلی کے خلاف نو ستاروں کی تحریک شروع ہوئی تو اس کے اولین اسیران میں حافظ شفیق بھی شامل تھا. اپوزیشن کے سینئر رہنما بشمول جاوید ہاشمی گلبرگ کے ایک ہوٹل میں تحریک کے سلسلے میں اجلاس کر رہے تھے کہ دھر لئے گئے.تب ہمارا ممدوح جناب حمید کوثر کی شفقت کی چھتر چھایا سے بہت دور سیاست کے خارزار میں داخل ہو رہا تھا. اس نے ایک آدھ بار پلٹ کر دیکھنے کی کوشش کی لیکن پتھر کا ہو گیا.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s