روزہ خور اور ضیائی قوانین

iftar-party

ضیائی دور سے قبل عبادات کو قربِ الہی کا وسیلہ اور اپنے نفس کی تربیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ عابد بغیر کسی نمود و نمائش کے اپنی اپنی عبادت میں مگن رہتے. ان دنوں لوگ تقوے کی علامات یعنی ریش مبارک اور نیکر نما شلواروں کے ملبوس کی نمائش سے ہچکچاتے مبادا لوگ انہیں ریاکار سمجھنا شروع کریں.

حسین ثاقب

یہ زیادہ پرانی بات نہیں، چھ سال پہلے کے ایک واقعہ کے بارے میں کل کی خبر ہے.

رمضان میں اوقاتِ صیام کے دوران میں پان سگریٹ کا کھوکھا کھولنے پر لاہور کے ایک دکاندار کو پانچ دن قید کی سزا سنائی گئی لیکن اس سزا کے خلاف اپیل کی شنوائی ہونے میں چھ سال لگ گئے. فاضل سیشن عدالت نے ازراہ فضل و کرم نہ صرف یہ کہ سزا ختم کر دی بلکہ مجرم سے معافی بھی مانگی. سنا ہے ملزم پان سگریٹ کی دکان کھول کر روزے داروں کا صبر آزما رہا تھا کہ قانون کی گرفت میں آ گیا. اشیائے خوردونوش کی دکانوں کا بند رہنا احترام رمضان کے چالیس سالہ پرانے قانون کا تقاضا ہے تاکہ ایک تو روزہ نہ رکھنے والوں پر عرصۂ حیات تنگ کر کے انہیں روزہ رکھنے پر مجبور کیا جاسکے اور دوسرے یہ کہ کوئی بھی روزہ داروں کو روزہ خوری کی ترغیب دینے کی جرآت نہ کر سکے.

گذشتہ سال جب یہ خبر عام ہوئی کہ جنرل ضیاء کی جانشین مسلم لیگی حکومت احترام رمضان کو مزید سختی سے نافذ کرنے کے لئے موجودہ ضیائی قانون میں ترمیم کا بل لا رہی ہے تو اس سے عادی روزہ خور ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی سہم گئے جو کسی شرعی عذر کی بنا پر روزہ چھوڑنے پر مجبور ہوتے اور اس کی تلافی اور خالق کی خوشنودی کے لئے کفارہ ادا کرتے ہیں. اس قانون میں ایسی ایسی ترامیم تجویز کی گئی تھیں جو آج نافذالعمل ہوجائیں تو اس کے بعد روزہ خوری کا ارادہ کرنا بھی جرم تصور ہوگا اور ایسے گنہگاروں کی مشکیں مزید کس دی جائیں گی۔

روزہ خوری تو موجودہ قانون کے تحت بھی جرم ہے لیکن علالت، پیرانہ سالی، سفر اور بیماری کی بنا پر جو استثنی شریعت میں موجود ہے اسے ملک کا قانون اور شریعت کے ارباب بست و کشاد تسلیم نہیں کرتے۔اسی لئے ہر نوع کی دکانیں جو اشیائے خوردونوش فروخت کر سکتی ہیں بند رکھی جاتی ہیں.آج کا علم نہیں لیکن آج سے چالیس سال پہلے یہ حکم بیکریوں پر بھی نافذ تھا. یعنی خالق کی خوشنودی حاصل کرنا مشکل نہیں، اس کی مخلوق کو مطمئن رکھنا کارے دارد ہے. حیرت اس بات پر ہے کہ احترام رمضان کے جیالے احترام نماز کا قانون کیوں نہیں بنواتے تاکہ نماز کے اوقات میں مسجد سے باہر پائے جانے والوں کو بھی اندر کیا جا سکے۔ آخر نماز کی فرضیت بھی روزے سے کسی طور کم نہیں۔

اللہ جزائے خیر دے، ہمارے اعلی عدلیہ کے ایک جج صاحب بھی عدالت سے برطرفی سے پہلے نفاذِ اسلام سے زیادہ احترام رمضان کے نفاذ کے مشن پر کسی مشنری کی طرح کاربند تھے۔ گذشتہ سال کی بات ہے، ان کی عدالت سے دھڑا دھڑ حکمنامے جاری ہوتے اور ان کی دوران سماعت دی گئ آبزرویشنز کے ایک ایک لفظ سے ان کی غیرت ایمانی ٹپکتی تھی۔ اگر قانون نے ان کے ہاتھ نہ باندھے ہوتے اور سپریم جوڈیشل کونسل نے انہیں گھر کا راستہ نہ دکھا دیا ہوتا تو شاید وہ عدالتی جبہ و دستار اتار کر خود گناہگاروں کی بیخ کنی کرنے نکل کھڑے ہوتے۔

مجھے یاد ہے کہ ضیائی دور سے قبل عبادات کو قربِ الہی حاصل کرنے کا وسیلہ اور اپنے نفس کی تربیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ عابد بغیر کسی نمود و نمائش کے اپنی اپنی عبادت میں مگن رہتے. ان کی یکسوئی کا یہ عالم ہوتا کہ انہیں پروا بھی نہیں ہوتی تھی کہ دوسرے لوگ بھی ان کی طرح مصروف عبادت ہیں یا نہیں۔ ان دنوں لوگ تقوے کی علامات یعنی ریش مبارک اور نیکر نما شلواروں کے ملبوس کی نمائش سے ہچکچاتے تھے مبادا لوگ انہیں ریاکار سمجھنا شروع کردیں۔ روزہ خور بھی احترام رمضان میں سرِ عام کھانے سے گریز کرتے اور روزے کے اوقات میں جو جو ہوٹل کھلے ہوتے ان کے دروازوں پر بھاری پردے ڈال دیئے جاتے پھر بھی روزہ خور حضرات شرم کے مارے پردہ اٹھاتے ہوئے عرق انفعال میں غرق ہو ہو جاتے تھے۔

جب ہم نے سرکاری نوکری شروع کی تو 1977ء کا دور تھا۔ ضیاء الحق کا مارشل لاء آچکا تھا لیکن ابھی چونکہ نہ الیکشن ہوئے تھے اور نہ ہی روس نے ضیاء کے طول اقتدار کے لئے افغانستان پر حملہ کیا تھا، اس لئے ملک میں ابھی پاکستانی ثقافت کا ہی دور دورہ تھا. اس وقت لاہور کے سول سیکرٹیریٹ کے باہر کرشن نگر جانے والے رستے پر ایک کینٹین تھی جس پر رمضان میں پردے کے اوپر اس طرح کا اعلان آویزاں ہوتا تھا کہ بیمار اور مسافر حضرات کے لئے کینٹین کھلی ہے۔ یہاں عام طور پر وہ مسافر بیٹھتے جو دوسرے شہروں سے مقدمے بازی کے سلسلے میں لاہور آتے تھے۔ انارکلی میں ملک شیک کے باپردہ کیبنوں اور کھانے پینے کی باقی جگہوں کا حال بھی یہی تھا۔ جی ہاں، ان دنوں ایسی جگہوں پر جوڑوں کے لئے فیملی کیبن بنے ہوتے تھے جن پر بعد ازاں پابندی عاید کر دی گئی.

پھر آپریشن فیئر پلے کی مدت ختم ہوئی، موعودہ الیکشن غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی پوئے، افغان جہاد شروع ہوا، انواع و اقسام کے مجاہدین نے دنیا بھر سے آکر پاکستان کو مسکن و مستقر قرار دیا اور اہل وطن کے لئے ایک طویل تاریک دور کا آغاز ہوا۔ قطع ید اور سنگساری کی سزا کا مطالبہ ہوا تو حدود آرڈیننس نافذ ہوا. وہ تو شکر ہے ہمارے عدالتی نظام میں مقدمات کو منطقی نتائج تک پہنچانا آسان نہیں ورنہ ملک کی آدھی آبادی ٹُنڈی ہو کر کتنی بری لگتی. صرف آحترام رمضان کے قانون کی وجہ سے پولیس والوں، صاحبان جبہ و دستار اور قانون دان حضرات کی چاندی ہوگئی. جو جو پولیس کے ذریعے مجسٹریٹ کے ہتھے چڑھتے، وکیل حضرات سو سو روپے فیس لے کر ان کی ضمانت بھی کرواتے. یہ دوسری قسم کی معاشی سرگرمی تھی جو احترام رمضان کے قانون کی وجہ سے فروغ حاصل کر رہی تھی. اس زمانے میں سفری ٹکٹ رکھنے والوں کو ریلوے سٹیشن پر کھانے پینے کی آزادی تھی لیکن ریلوے مجسٹریٹ پلیٹ فارم پر ٹکٹ چیک کرتا پھرتا تاکہ کوئی غیرمسافر استثنی کے مزے نہ اڑا سکے.

پہلے بھی کہیں ذکر کر چکا ہوں کہ میرےایک اخبار نویس دوست اور پیغمبری دور کے ساتھی سید وجیہہ ہمدانی جو ہر روز ٹرین سے کامونکی جایا کرتے تھے، ایک دن لاہور ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 2 پر ٹھیلے پر کھڑے کھانا کھاتے ہوئے دھر لئے گئے ۔ ریلوے مجسٹریٹ نے ان کی متاثرکن شخصیت کے زیر اثر انہیں کرسی پر بٹھایا اور ریلوے پولیس کی حوالات روانہ کرنے سے پہلے انہیں ادھر ادھر فون کرنے کی اجازت دے دی. مجھے اطلاع ملی تو میں بھاگم بھاگ کلیار نامی مجسٹریٹ کے پاس پہنچا اور اس سے اپنا تعارف کرایا۔ وہ اپنے چیمبر میں بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا۔ اس کا احترام رمضان دیکھ کر میں اپنی ہنسی پر قابو نہ پا سکا اور وہ بھی کھسیانا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ آپ کے دوست کے پاس ریلوے کا ماہانہ سفری پاس تھا اور وہ بچ سکتاتھا لیکن اس نے غیرضروری طور پر سچ بولا. اس نے میرے سوال پر بالاصرار کہا کہ سفر تو اسے شام کی ٹرین سے کرنا ہے اس وقت وہ صرف کھانا کھانے آیا ہے ۔ میں نے کہا کلیار صاحب میرا دوست نجیب الطرفین سید اور ایماندار کمیونسٹ ہے اور وہ روزہ خوری کی حالت میں بھی جھوٹ نہیں بولتا۔ مجسٹریٹ نے ہی کسی میاں مٹھو وکیل کو بلایا جس نے دو سو روپے کے عوض ضمانت کے کاغذات تیار کئے. کاغذات لے کر ریلوے سٹیشن کے تھانے پہنچا تو موسلادھار بارش ہو رہی تھی جس میں ہمارے احترام رمضان کے قانون کے رکھوالے چائے کے ساتھ سموسے اڑا رہے تھے.

آج سے چونتیس سال پہلے رمضان میں کراچی جانے کا اتفاق ہوا. کراچی میں مئی کا مہینہ تھا اور شدید گرمی اور لُو کا موسم تھا. دن کے وقت کسٹمز ہاؤس میں اپنی بیچ میٹ مرحومہ پروین شاکر سے ملنے گیا جو اس وقت وہاں اسسٹنٹ کلکٹر تعینات تھیں. انہوں نے پوچھا، روزہ دار ہو یا مسافر؟ میں کھسیانا ہو گیا. انہوں نے نائب قاصد کو بلاکر مہمان کی خاطر مدارات کا حکم دیا، لیکن وہ باہر جا کر بے نیل و مرام لوٹ آیا. انہوں نے اپنے بارسوخ پرنسپل اپریزر کو فون کیا تو دو چکن پیٹیز اور ایک فروسٹ کا انتظام ہوا. اُس زمانے میں اہرامِ مصر کے ہم شکل ٹیٹرا پیک جوس کو فروسٹ کہتے تھے.

لاہور کے بعض سنیما گھروں میں رمضان کے مہینے میں خصوصی رش ہوتا تھا. اس ماہ مبارک میں یہ کمبخت ٹوٹے چلاتے اور انٹرول کی نیم تاریکی میں روزہ خوروں کی لذت کام و دہن کا بھی خیال رکھتے تھے. چونکہ انہیں چھاپہ مار ٹیموں سے نمٹنے کا ہنر آتا تھا اس لئے ان کا کاروبار کامیابی سے چلتا رہتا تھا. جس روز چھاپہ پڑنے کا خدشہ ہوتا یا پیشگی اطلاع ملتی اس روز انٹرول سے پہلے دستاویزی فلم چلتی اور رمضان کے مہینے میں روزہ خور بھوکے رہتے. ایبٹ روڈ کے ایک سنیما میں “سالا صاحب” لگی تو اس نے خوب رش لیا جس میں ظاہر ہے فلم کا کوئی کمال نہیں تھا.

قابل اعتراض فلموں کی بات اپنی جگہ، صاحبان حیثیت متقی حضرات سارا دن وی سی آر پر فلمیں دیکھتے اور روزے کو بہلاتے اور ساتھ ساتھ اس کارِ خیر میں ان احباب کو بھی شریک کرتے جو وی سی آر کی نعمت سے محروم ہوتے تھے. جی ہاں اس زمانے میں صرف صاحب حیثیت لوگ ہی وڈیو کے لوازمات فراہم کرنے کے قابل ہوتے تھے. ایک دن برادر ظہور بٹ نے، جو اس وقت سرکاری نیوز ایجنسی میں کام کرتے تھے، اطلاع دی کہ لاہور کے ایک خلیفہ ٹائپ سینئر صحافی نے اپنے دولت کدے پر وی سی آر پر فلم “میسج” دیکھنے کے لئے مدعو کر رکھا ہے. فلم نئی نئی ریلیز ہوئی تھی اس لئے معذرت کی گنجائش نہیں تھی. گرمیوں، اور اہل کراچی کی زبان میں رمضانوں، کا موسم تھا. فلم بینی کے دوران میں خشوع و خضوع کی کیفیت غالب رہی. البتہ فلم کے بعد دوپہر کے لذیذ کھانے اور ملتان کے خوشبودار آموں کا بھی خصوصی اہتمام تھا.

ہم نے بچپن سے یہی دیکھا تھا کہ روزہ خوروں کے لئے، چاہے وہ سکول جانے والے بچے ہوں یا شرعی عذر رکھنے والے بزرگ، ناشتے اور دوپہر کے کھانے کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا. جو سحری کے لئے پکتا وہی لپیٹ کر رکھا دیا جاتا. ہمیں سکول سے آ کر وہی باسی کھانا کھانا پڑتا. البتہ زیادہ شدید مریضوں کے لئے تازہ پھلکا بن سکتا تھا لیکن وہ بھی طوعا”و کرعا”. اس زمانے میں طبیب تازہ پھلکا چھوٹے گوشت کے شوربے میں بھگو کر کھانے کی پرہیزی غذا تجویز کرتے تھے.چوزہ صرف یخنی کے لئے مخصوص تھا. لاہور کے آر اے بازار میں ایک حکیم شفیق صاحب تھے جو ابلے چاولوں پر میٹھا دودھ ڈال کر کھانے کا حکم دیتے تھے. ایک بار تیز بخار میں مجھے بھی یہی حکم ملا. نتیجتا” دودھ چاول سے کراہت آج تک برقرار ہے. سیب سے نفرت کی وجہ بھی یہی ہے.

پیامِ مشرق میں علامہ اقبال نے انسان اور خدا کا مکالمہ نظم کیا ہے. جس میں خدا انسان سے کہتا ہے کہ دیکھو میں نے ایک دنیا تمہارے حوالے کی اور تم نے اس کا کیا سے کیا بنا دیا. جواب میں انسان بھی خدا سے ایسی ہی بات کہتا ہے کہ تو نے رات بنائی، میں نے چراغ بنا کر روشنی پیدا کی. پوری نظم تو حافظے میں محفوظ نہیں، بس یہ ایک بند یاد رہ گیا ہے.

تو شب آفریدی چراغ آفریدم
سفال آفریدی ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم

یہ انسان کی فطرت ہے کہ حکمت خداوندی کو دانستہ یا نادانستہ پچھاڑنے کی کوشش کرتا ہے. آپ رمضان کی ہی مثال لے لیں، یہ مہینہ ہمیں بھوک پیاس اور ترکِ لذات کے ذریعے تزکیۂ نفس اور روحانی مدارج طے کرنے کا سنہری موقع فراہم کرتا ہے، لیکن ہمارے ہاں رمضان ایسے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے جس میں ہمارے روزہ داروں کے نفس کی ساری توجہ بھوکا پیاسا رہنے یا تزکیہ پر نہیں بلکہ افطار کے وقت انواع و اقسام کے ایسے کھانوں پر مرکوز ہوتی ہے جو معمول میں ہماری خوراک کا حصہ نہیں ہوتے. ایسے لگتا ہے پکوڑے، سموسے، فروٹ چاٹ اور دہی بھلوں سے افطار کرنے کا حکم کچھ سال پہلے ہی نازل ہوا ہے اور اس پر پوری توانائیوں کے ساتھ عمل ہونا چاہئے. اس ماہِ مبارک میں روحانی تربیت تو کیا ہوگی، الٹا روزہ داروں کے جسم پر کئی کلو چربی چڑھ جاتی ہے جس سے روزہ رکھنے کی افادیت ختم ہو جاتی ہے. اس کے علاوہ غیر معمولی غذاؤں کے استعمال سے معیشت پر برا اثر پڑتا ہے. اربابِ اقتدار کے گھر کی خواتین کے درجات بلند کرنے سے پہلے کبھی آپ نے سوچا کہ رمضان میں آٹا، دال، چاول یا گوشت کیوں اتنے مہنگے نہیں ہوتے اور صرف پھل، لیموں اور کھجوروں کے نرخ ہی آسمان سے کیوں باتیں کرتے ہیں؟

(زیرِ تصنیف کتاب” لذّتِ آشنائی” کا ایک باب)

Advertisements